پڑوسی کی بکری نے
پھر گھر میں گھس کر
کوئی چیز کھا لی
بیوی نے سر پہ قیامت اٹھا لی
منے کو
رونے میں جیسے مزا آ رہا ہے
برابر وہ روئے چلا جا رہا ہے
فقیر اب بھی چوکھٹ سے چپکا ہوا ہے
وہی روز والی دعا دے رہا ہے
روٹی کے جلنے کی بو
اور اماں کی چیخوں سے
گھر بھر گیا ہے
پنجرے میں چکراتے مٹھو کی آواز
روٹی دو
بی بی جی روٹی دو'
اس شور میں کھو گئی ہے
روٹی توے پر بھسم ہو گئی ہے
محمد علوی
Padosi ki bakri ne
Phir ghar mein ghus kar
Koi cheez kha li
Biwi ne sar pe qayamat utha li
Munne ko
Rone mein jaise maza aa raha hai
Barabar woh roye chala ja raha hai
Faqeer ab bhi chaukhat se chipka hua hai
Wohi roz wali dua de raha hai
Roti ke jalne ki boo
Aur Amma ki cheekhon se
Ghar bhar gaya hai
Pinjre mein chakrate mithu ki awaaz
'Roti do
Bibi ji roti do'
Is shor mein kho gayi hai
Roti tawe par bhasam ho gayi hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں