سچ کہاں کہتا ہے جانے والا
خوب پچھتائے گا آنے والا
رات اور دن کا تسلسل کیا ہے
ایک چکر ہے تھکانے والا
مطمئن ہے وہ بنا کر دنیا
کون ہوتا ہوں میں ڈھانے والا
صبح سے کھود رہا ہوں گھر کو
خواب دیکھا ہے خزانے والا
تھک گیا تھا تو ذرا رک جاتا
میری تصویر بنانے والا
دل میں اس درجہ خموشی کیوں ہے
کیا ہوا شور مچانے والا
شرم سے ڈوب مرے گا علویؔ
خوش کہاں ہوگا ستانے والا
محمد علوی
Sach kahan kehta hai jaane wala
Khoob pachtayega aane wala
Raat aur din ka tasalsul kya hai
Ek chakkar hai thakane wala
Mutmaeen hai wo bana kar duniya
Kaun hota hun main dhane wala
Subah se khod raha hun ghar ko
Khwab dekha hai khazane wala
Thak gaya tha to zara ruk jata
Meri tasveer banane wala
Dil mein is darja khamoshi kyon hai
Kya hua shor machane wala
Sharm se doob marega Alwi
Khush kahan hoga satane wala
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں