محمد علوی — شاعر کی تصویر

سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں

سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں
یہ دھوپ سارا سمندر ہی پی نہ جائے کہیں
میں خود کو مرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوں
یہ ڈر بھی ہے کہ مری آنکھ کھل نہ جائے کہیں
ہوا کا شور ہے بادل ہیں اور کچھ بھی نہیں
جہاز ٹوٹ ہی جائے زمیں دکھائے کہیں
چلا تو ہوں مگر اس بار بھی یہ دھڑکا ہے
یہ راستہ بھی مجھے پھر یہیں نہ لائے کہیں
خموش رہنا تمہارا برا نہ تھا علویؔ
بھلا دیا تمہیں سب نے نہ یاد آئے کہیں

safar mein sochte rehte hain chhaon aaye kahin

safar mein sochte rehte hain chhaon aaye kahin
ye dhoop sara samundar hi pi na jae kahin
main khud ko marte hue dekh kar bahut khush hun
ye Dar bhi hai ki meri aankh khul na jae kahin
hawa ka shor hai badal hain aur kuch bhi nahin
jahaz toot hi jae zameen dikhae kahin
chala to hun magar is bar bhi ye dhaRka hai
ye rasta bhi mujhe phir yahin na lae kahin
khamosh rahna tumhara bura na tha Alvi
bhula diya tumhen sab ne na yaad aaye kahin

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام