سمندر میں سہارا رکھ لیا ہے
سفینہ میں کنارہ رکھ لیا ہے
تری باتیں وہیں پر چھوڑ دی ہیں
فقط تیرا اشارہ رکھ لیا ہے
ستارے گنتے گنتے آخر شب
چرا کے اک ستارہ رکھ لیا ہے
سفر میں آبشار آیا تو ہم نے
تھکن جھاڑی نظارہ رکھ لیا ہے
جسے رکھ کر بہت پچھتائے تھے ہم
اسے ہم نے دوبارہ رکھ لیا ہے
منافع خرچ کر ڈالا ہے علویؔ
بڑھاپے میں خسارہ رکھ لیا ہے
محمد علوی
Samundar mein sahara rakh liya hai
Safeena mein kinara rakh liya hai
Teri baatein wahin par chhod di hain
Faqat tera ishaara rakh liya hai
Sitare ginte ginte aakhir shab
Chura ke ek sitara rakh liya hai
Safar mein aabshar aaya to hum ne
Thakan jhaadi nazara rakh liya hai
Jise rakh kar bahut pachhtaye the hum
Use hum ne dobara rakh liya hai
Manafey kharch kar dala hai Alvi
Budhape mein khasara rakh liya hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں