شانتی کی دکانیں کھولی ہیں
فاختائیں کہاں کی بھولی ہیں
کیسی چپ سادھ لی ہے کوؤں نے
جیسے بس کوئلیں ہی بولی ہیں
رات بھر اب اودھم مچائیں گے
خواہشیں دن میں خوب سو لی ہیں
چل پڑے ہیں کٹے پھٹے جذبے
حسرتیں ساتھ ساتھ ہو لی ہیں
کون قاتل ہے کیا پتہ چلتا
سب نے اپنی قبائیں دھو لی ہیں
شعر ہوتے نہیں تو علویؔ نے
خون میں انگلیاں ڈبو لی ہیں
محمد علوی
Shaanti ki dukanein kholi hain
Faakhtayein kahan ki bhooli hain
Kaisi chup saadh li hai kauwon ne
Jaise bas koyalein hi boli hain
Raat bhar ab udham machayenge
Khwahishein din mein khoob so li hain
Chal pade hain kate phate jazbe
Hasratein saath saath ho li hain
Kaun qaatil hai kya pata chalta
Sab ne apni qabaayein dho li hain
Sher hote nahin toh Alvi ne
Khoon mein ungliyan dubo li hain
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں