شگن لے کر نہ کیوں گھر سے چلا میں
تمہارے شہر میں تنہا پھرا میں
اکیلا تھا کسے آواز دیتا
اترتی رات سے تنہا لڑا میں
گزرتے وقت کے پیروں میں آیا
سرکتی دھوپ کا سایا بنا میں
خلاؤں میں مجھے پھینکا گیا تھا
زمیں پہ ریزہ ریزہ ہو گیا میں
مرے ہونے نے مجھ کو مار ڈالا
نہیں تھا تو بہت محفوظ تھا میں
یہاں تو آئینے ہی آئینے ہیں
مجھے ڈھونڈو کہاں پر کھو گیا میں
محمد علوی
Shagun le kar na kyun ghar se chala main
Tumhare shahr mein tanha phira main
Akela tha kise aawaz deta
Utarti raat se tanha laRa main
Guzarte waqt ke pairoN mein aaya
Sarkati dhoop ka saaya bana main
Khala.oN mein mujhe phenka gaya tha
Zameen pe reza reza ho gaya main
Mare hone ne mujh ko maar Daala
Nahin tha to bahut mehfooz tha main
Yahan to aaine hi aaine hain
Mujhe DhooNDo kahan par kho gaya main
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں