محمد علوی — شاعر کی تصویر

شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں

شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں
میں آنکھیں بند کر کے گھر کے اندر دیکھ لیتا ہوں
ادھر اس پار کیا ہے یہ کبھی سوچا نہیں میں نے
مگر میں روز کھڑکی سے سمندر دیکھ لیتا ہوں
سڑک پہ چلتے پھرتے دوڑتے لوگوں سے اکتا کر
کسی چھت پر مزے میں بیٹھے بندر دیکھ لیتا ہوں
یہ سچ ہے اپنی قسمت کوئی کیسے دیکھ سکتا ہے
مگر میں تاش کے پتے اٹھا کر دیکھ لیتا ہوں
گلی کوچوں میں چوراہوں پہ یا بس کی قطاروں میں
میں اس چپ چاپ سی لڑکی کو اکثر دیکھ لیتا ہوں
چلا جاؤں گا جیسے خود کو تنہا چھوڑ کر علویؔ
میں اپنے آپ کو راتوں میں اٹھ کر دیکھ لیتا ہوں

sharife ke darakhton mein chhupa ghar dekh leta hun

sharife ke darakhton mein chhupa ghar dekh leta hun
main aankhen band kar ke ghar ke andar dekh leta hun
idhar us paar kya hai ye kabhi socha nahin main ne
magar main roz khirki se samundar dekh leta hun
sarak pe chalte phirte dauRte logon se ukta kar
kisi chhat par maze mein baiThe bandar dekh leta hun
ye sach hai apni qismat koi kaise dekh sakta hai
magar main taash ke patte uTha kar dekh leta hun
gali koochon mein chaurahon pe ya bus ki qataron mein
main us chhup chap si laRki ko aksar dekh leta hun
chala jaunga jaise khud ko tanha chhoR kar Alvi
main apne aap ko raaton mein uTh kar dekh leta hun

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام