محمد علوی — شاعر کی تصویر

شہر کیسا ہے مکاں کیسے ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

شہر کیسا ہے مکاں کیسے ہیں

شہر کیسا ہے مکاں کیسے ہیں
کیا پتہ لوگ وہاں کیسے ہیں
سنتے ہیں اور جہاں بھی ہیں مگر
کون جانے وہ کہاں کیسے ہیں
تشنگی اور بڑھا دیتے ہیں
ریت پر آب رواں کیسے ہیں
ہم تو ہر حال میں خوش رہتے ہیں
آپ بتلائیں میاں کیسے ہیں
کوئی آیا نہ گیا ہے علویؔ
پھر یہ قدموں کے نشاں کیسے ہیں

Shehar kaisa hai makaan kaise hain

Shehar kaisa hai makaan kaise hain
Kya pata log wahan kaise hain
Sunte hain aur jahan bhi hain magar
Kaun jaane woh kahan kaise hain
Tishnagi aur badha dete hain
Reit par aab rawan kaise hain
Hum toh har haal mein khush rehte hain
Aap batlayein miyaan kaise hain
Koi aaya na gaya hai Alviؔ
Phir yeh qadmon ke nishaan kaise hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام