محمد علوی — شاعر کی تصویر

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے
چپ رہنے میں اور مزا ہے
کیا پایا دیوان چھپا کر
لو ردی کے مول بکا ہے
دروازے پر پہرہ دینے
تنہائی کا بھوت کھڑا ہے
گھر میں کیا آیا کہ مجھ کو
دیواروں نے گھیر لیا ہے
میں ناحق دن کاٹ رہا ہوں
کون یہاں سو سال جیا ہے
آگے پیچھے کوئی نہیں ہے
کوئی نہیں تو پھر یہ کیا ہے
باہر دیکھ چکوں تو دیکھوں
اندر کیا ہونے والا ہے
ایک غزل اور کہہ لو علویؔ
پھر برسوں تک چپ رہنا ہے

Sher to sab kehte hain kya hai

Sher to sab kehte hain kya hai
Chup rehne mein aur maza hai
Kya paaya deewan chhupa kar
Lo raddi ke mol bika hai
Darwaze par pehra dene
Tanhai ka bhoot khada hai
Ghar mein kya aaya ke mujh ko
Deewaron ne gher liya hai
Main naahaq din kaat raha hoon
Kaun yahan sau saal jiya hai
Aage peeche koi nahin hai
Koi nahin to phir ye kya hai
Bahar dekh chukun to dekhun
Andar kya hone wala hai
Ek ghazal aur keh lo Alvi
Phir barson tak chup rehna hai

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام