سوتے سوتے اچانک گلی ڈر گئی
دوپہر چیل کی چیخ سے بھر گئی
ایک جھونکا رکا آ کے دالان میں
اک مہک دل کو بے چین سا کر گئی
وہ گھنے جنگلوں میں کہیں کھو گیا
یاد اس کی سمندر سمندر گئی
آج کی صبح تھی کس قدر مہرباں
پھول ہی پھول گلدان میں بھر گئی
گھر میں علویؔ نیا رنگ و روغن ہوا
شکل تھی ایک دیوار پہ مر گئی
محمد علوی
Sote sote achaanak gali dar gayi
Dopahar cheel ki cheekh se bhar gayi
Ek jhonka ruka aa ke dalaan mein
Ik mehak dil ko bechain sa kar gayi
Woh ghane jangalon mein kahin kho gaya
Yaad us ki samandar samandar gayi
Aaj ki subh thi kis qadar mehrbaan
Phool hi phool guldani mein bhar gayi
Ghar mein Alvi naya rang o roghan hua
Shakl thi ek deewar pe mar gayi
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں