سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے
اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے
تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا
نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے
گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا
ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے
ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے
وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے
بھلا ہو چاند کا آتے ہی نور پہنچایا
ستارے ہوتے تو آنکھیں چرا گئے ہوتے
جوان جسموں کو ٹھنڈا نہ کر سکے لیکن
ہوا کے جھونکے دیا تو بجھا گئے ہوتے
محمد علوی
Sukhāne bāl hi koṭhe pe aa gaye hote
Isi bahāne zara munh dikhā gaye hote
Tumhein bhi waqt kī raftār ka pata chalta
Nikal ke ghar se gali tak to aa gaye hote
Galā bhigo ke kahīñ aur sadā lagā letā
Zara faqeer ko paani pilā gaye hote
Are yeh ṭheek hua hoñṭ si liye hum ne
Wagarna log tujhe kab ka pā gaye hote
Bhalā ho chānd ka aate hi noor pahunchāya
Sitāre hote to ānkhein churā gaye hote
Jawān jismoñ ko ṭhanḍā na kar sake lekin
Hawā ke jhoñke diyā to bujhā gaye hote
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں