تھوڑی سردی ذرا سا نزلہ ہے
شاعری کا مزاج پتلا ہے
سننے والوں کا کچھ قصور نہیں
نیا شاعر بچارا ہکلا ہے
دیکھیے تو سبھی برابر ہے
سوچیے تو عجیب گھپلا ہے
پیار کرتے بھی ہیں نہیں بھی ہیں
دل اسی بات پر تو مچلا ہے
اب یہاں کوئی بھی نہیں آتا
دوستوں نے ٹھکانا بدلا ہے
آؤ علویؔ مزے کرا لائیں
یار اس شہر میں بھی چکلہ ہے
محمد علوی
Thoḍi sardī zarā sā nazla hai
Shāirī ka mizāj patlā hai
Sun'ne wālon ka kuch qasoor nahīñ
Naya shāir bichārā haklā hai
Dekhiye to sabhi barābar hai
Sochiye to ajīb ghaplā hai
Pyār karte bhi hain nahīñ bhi hain
Dil isi baat par to machlā hai
Ab yahāñ koī bhi nahīñ ātā
Doston ne ṭhikāna badlā hai
Āo Alwi maze karā lāyeñ
Yār is shahr mein bhi chaklā hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں