اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو
میں آدھی رات کو روتا ہوا ملا مجھ کو
ترا نہ ملنا عجب گل کھلا گیا اب کے
ترے ہی جیسا کوئی دوسرا ملا مجھ کو
کل ایک لاش ملی تھی مجھے سمندر میں
اسی کی جیب سے تیرا پتا ملا مجھ کو
بہت ہی دور کہیں کوئی بم گرا تھا مگر
مرا مکان بھی جلتا ہوا ملا مجھ کو
مری غزل تھی پہ علویؔ کا نام تھا اس پر
غزل پڑھی تو انوکھا مزا ملا مجھ کو
محمد علوی
Use na dekh ke dekha to kya mila mujh ko
Main aadhi raat ko rota hua mila mujh ko
Tera na milna ajab gul khila gaya ab ke
Tere hi jaisa koi doosra mila mujh ko
Kal ek laash mili thi mujhe samandar mein
Usi ki jeb se tera pata mila mujh ko
Bahut hi door kahin koi bomb gira tha magar
Mera makan bhi jalta hua mila mujh ko
Meri ghazal thi pe Alwi ka naam tha us par
Ghazal padhi to anokha maza mila mujh ko
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں