اس کی بات کا پاؤں نہ سر
پھر بھی چرچا ہے گھر گھر
چیل نے انڈا چھوڑ دیا
سورج آن گرا چھت پر
اچھا تو شادی کر لی
جا اب بچے پیدا کر
لے یہ پتھر ہاتھ میں لے
مار اسے میرے سر پر
پھوہڑ اس مہنگائی میں
آٹا تو گیلا مت کر
میرے پتے دیکھ ذرا
دو اکے اور اک جوکر
اس کا ٹیڑھا اونٹ نہ دیکھ
اپنا الو سیدھا کر
بیوی اکیلی ڈرتی ہے
شام ہوئی اب چلیے گھر
علویؔ عادلؔ اور ظفرؔ
تینوں کے تینوں اندر
محمد علوی
Uski baat ka paon na sar
Phir bhi charcha hai ghar ghar
Cheel ne anda chhod diya
Suraj aan gira chhat par
Achha to shaadi kar li
Jaa ab bachche paida kar
Le ye patthar haath mein le
Maar use mere sar par
Phoohad is mahngai mein
Aata to geela mat kar
Mere patte dekh zara
Do Ikke aur ik Joker
Uska tedha oonth na dekh
Apna ullu seedha kar
Biwi akeli darti hai
Shaam hui ab chaliye ghar
Alwi, Adil aur Zafar
Teenon ke teenon andar
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں