اٹھی کچھ ایسے بدن کی خوشبو
سمٹ گئی پیرہن کی خوشبو
سحر ہوئی تو عجب ادا سے
کلی میں اتری کرن کی خوشبو
ہواؤں سے دوستی نہ کرنا
لٹا نہ دینا چمن کی خوشبو
مزے اڑاؤ گے ہجرتوں کے
لیے پھرو گے وطن کی خوشبو
اندھیری راتوں میں دیکھ لینا
دکھائی دے گی بدن کی خوشبو
یہ کون علویؔ چلا گیا ہے
سمیٹ کر انجمن کی خوشبو
محمد علوی
Uthi kuchh aise badan ki khushboo
Simat gayi peerahun ki khushboo
Sahar hui to ajab ada se
Kali mein utri kiran ki khushboo
Hawa.oN se dosti na karna
LuTa na dena chaman ki khushboo
Maze uRaoge hijratoN ke
Liye phiroge watan ki khushboo
Andheri raatoN mein dekh lena
Dikhayi de gi badan ki khushboo
Yeh kaun Alvi chala gaya hai
SameT kar anjuman ki khushboo
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں