محمد علوی — شاعر کی تصویر

واپسی — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

واپسی

سمندر سامنے پھیلا ہوا ہے
چمکتی ریت قدموں میں بچھی ہے
پرندے تیرتے ہیں آسماں پر
افق میں ایک کشتی ڈوبتی ہے
کنارہ چھوڑ کے جاتی ہیں موجیں
نہا کر دھوپ اجلی ہو گئی ہے
گھٹا جاتا ہے دم مرنے سے پہلے
ہوا میں مچھلیوں کی بو بسی ہے
چلو اب آج کا دن اور جی لیں
کہ مرنے کو ابھی کل بھی پڑی ہے

Wapsi

Samundar saamne phaila hua hai
Chamakti ret qadmon mein bichhi hai
Parinde tairte hain aasman par
Ufuq mein ek kashti doobti hai
Kinara chhod ke jaati hain maujen
Naha kar dhoop ujli ho gayi hai
Ghata jaata hai dam marne se pehle
Hawa mein machhliyon ki boo basi hai
Chalo ab aaj ka din aur jee lein
Ke marne ko abhi kal bhi padi hai

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام