وہ دن کتنا اچھا تھا
میں جی بھر کے رویا تھا
ہوا ٹھمک کے چلتی تھی
ہاتھوں میں گلدستہ تھا
ہوک سی اٹھتی تھی دل میں
اونچا نیچا رستہ تھا
یہی پیڑ تھے پہلے بھی
یہیں کہیں اک چشمہ تھا
چشمے کا سویا پانی
مجھ دیکھ کے چونکا تھا
پانی چھوڑ کے اک گیدڑ
اک جھاڑی میں لپکا تھا
دو مینڈک ٹرائے تھے
ایک پرندہ چیخا تھا
اک کچھوا اک پتھر پر
پتھر بن کے بیٹھا تھا
میں پانی میں اترا تو
پانی زور سے اچھلا تھا
پہلے بھی اس جنگل سے
ایک بار میں گزرا تھا
لیکن پہلی بار علویؔ
یاد نہیں کیا سوچا تھا
محمد علوی
Woh din kitna achha tha
Main jee bhar ke roya tha
Hawa thumak ke chalti thi
Haathon mein guldasta tha
Hook si uthti thi dil mein
Ooncha neecha rasta tha
Yehi peD the pehle bhi
Yeheen kaheen ek chashma tha
Chashme ka soya paani
Mujhe dekh ke chaunka tha
Paani chhoD ke ek geeDaR
Ek jhaari mein lapka tha
Do mainDak tarra.e the
Ek parinda cheekha tha
Ek kachhwa ek patthar par
Patthar ban ke baitha tha
Main paani mein utra to
Paani zor se uchhla tha
Pehle bhi is jangal se
Ek baar main guzra tha
Lekin pehli baar Alvi
Yaad nahin kya socha tha
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں