کھڑکی کے پردے سرکا کر
کمرے میں آ جاتی ہیں
آپس میں چہلیں کرتی ہیں
میری ہنسی اڑاتی ہیں
میز پہ اک تصویر ہے اس کو
دیکھ کے شور مچاتی ہیں
میں گھبرا کے بھاگ اٹھتا ہوں
وہ مل کر چلاتی ہیں
کمرے سے ان کی آوازیں
دور دور تک آتی ہیں
دور دور تک آتی ہیں
اور پتھر برساتی ہیں
محمد علوی
Khidki ke parde sarka kar
Kamre mein aa jaati hain
Aapas mein chehlen karti hain
Meri hansi udaati hain
Mez pe ek tasveer hai us ko
Dekh ke shor machaati hain
Main ghabra ke bhaag uthta hoon
Woh mil kar chillaati hain
Kamre se un ki awaazein
Door door tak aati hain
Door door tak aati hain
Aur patthar barsaati hain
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں