یار آج میں نے بھی اک کمال کرنا ہے
جسم سے نکلنا ہے جی بحال کرنا ہے
آنکھیں اور چہرے پر چار چھ لگانی ہیں
سارا حسن قدرت کا پائمال کرنا ہے
زندگی کے رستے پر کیوں کھڑا ہوا ہوں میں
آتے جاتے لوگوں سے کیا سوال کرنا ہے
ہاں بچا لوں تھوڑا سا خود کو دن کے ہاتھوں سے
آتی رات کا بھی تو کچھ خیال کرنا ہے
لو پچاس بھی اب تو خیر سے ہوئے پورے
یہ تماشا کیا علویؔ ساٹھ سال کرنا ہے
محمد علوی
Yaar aaj main ne bhi ik kamaal karna hai
Jism se nikalna hai, jee bahaal karna hai
Aankhein aur chehre par chaar chhe lagani hain
Saara husn qudrat ka paayemaal karna hai
Zindagi ke raste par kyun khada hua hoon main
Aate jaate logon se kya sawaal karna hai
Haan bacha loon thoda sa khud ko din ke haathon se
Aati raat ka bhi toh kuch khayal karna hai
Lo pachaas bhi ab toh khair se hue poore
Yeh tamasha kya Alvi saatth saal karna hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں