پھر اک
سرد ٹھٹھرا ہوا دن
دبے پاؤں چلتا ہوا
بالکنی سے
کمرے میں آیا
مجھے اپنے بستر میں
دبکا ہوا دیکھ کر
مسکرایا
اور آرام کرسی پہ بیٹھا
گھڑی گود میں رکھ کے
کانٹا گھمایا
تھکے پاؤں چلتا ہوا
بالکنی کو لوٹا
تو چاروں طرف سے
اندھیروں نے بڑھ کے
اسے پھاڑ کھایا
محمد علوی
Phir ek
Sard thithra hua din
Dabe paaon chalta hua
Balcony se
Kamre mein aaya
Mujhe apne bistar mein
Dabka hua dekh kar
Muskuraya
Aur aaram kursi pe baitha
Ghadi god mein rakh ke
Kaanta ghumaya
Thake paaon chalta hua
Balcony ko lauta
Toh charon taraf se
Andheron ne badh ke
Use phaar khaya
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں