محمد علوی — شاعر کی تصویر

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت
کیوں کہیں کہ ہم پریشاں ہیں بہت
آنکھ میں رکھ لے یہ منظر پھر کہاں
راہ میں تیری بیاباں ہیں بہت
موت تو آئی ہے آئے گی مگر
اور بھی جینے میں نقصاں ہیں بہت
یاد رکھنا بھی کوئی مشکل نہیں
بھول جانے کے بھی امکاں ہیں بہت
پھر غزل کہنی ہے ہم کو اور ہم
تاش کے پتوں میں غلطاں ہیں بہت
آدمی اچھے ہیں اس میں شک نہیں
ہاں مگر علویؔ مسلماں ہیں بہت

Yunhi hum par sab ke ehsan hain bahut

Yunhi hum par sab ke ehsan hain bahut
Kyon kahein ke hum pareshan hain bahut
Aankh mein rakh le ye manzar phir kahan
Raah mein teri biyaban hain bahut
Maut to aayi hai aayegi magar
Aur bhi jeene mein nuqsan hain bahut
Yaad rakhna bhi koi mushkil nahin
Bhool jaane ke bhi imkan hain bahut
Phir ghazal kehni hai hum ko aur hum
Taash ke patton mein ghaltan hain bahut
Aadmi achhe hain is mein shak nahin
Haan magar Alwi musalman hain bahut

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام