زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے
سمندروں میں اتر گئی ہے
خموشیوں میں صدا گجر کی
خیال کے پر کتر گئی ہے
کھڑے ہیں بے برگ سر جھکائے
ہوا درختوں کو چر گئی ہے
ہمیں تو نیند آئے گی نہ لیکن
یہ رات بھی تو ٹھہر گئی ہے
کہاں بھٹکتے پھرو گے علویؔ
سڑک سے پوچھو کدھر گئی ہے
محمد علوی
Zameen logon se dar gayi hai
Samundaron mein utar gayi hai
Khamoshiyon mein sada gujar ki
Khayal ke par kutar gayi hai
Khade hain be barg sar jhukaye
Hawa darakhton ko char gayi hai
Hamen to neend aayegi na lekin
Ye raat bhi to thahar gayi hai
Kahan bhatakte phiroge Alwi
Sadak se poocho kidhar gayi hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں