آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی
کھل گئے شہر غم کے دروازے
اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی
کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھے
مٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی
خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
ماہ شب تاب کے نکلتے ہی
تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
عکس دیوار کے بدلتے ہی
خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں
چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی
منیرنیازی
Aa gai yaad shaam dhalte hi
Bujh gaya dil chiragh jalte hi
Khul gaye shahr-e-gham ke darwaze
Ek zara si hawa ke chalte hi
Kaun tha tu ke phir na dekha tujhe
Mit gaya khwab aankh milte hi
Khauf aata hai apne hi ghar se
Maah-e-shab-e-taab ke nikalte hi
Tu bhi jaise badal sa jaata hai
Aks deewar ke badalte hi
Khoon sa lag gaya hai haathon mein
Chadh gaya zehar gul masalte hi
منیر نیازی 19 اپریل 1928ء کو ہوشیار پور کے قصبہ خان پور کے اک پشتون گھرانے میں پپدا ہوئے۔ ان کے والد محمد فتح خان محکمۂ انہار میں ملازم تھے لیکن خاندان کے باقی لوگ فوج یا ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ منیر ایک سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی پرورش ماں اور چچاؤں نے کی۔ ان کی والدہ کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور ان ہی سے ادب...
مکمل تعارف پڑھیں