زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا
منیرنیازی
Zinda rahen to kya hai jo mar jayen hum to kya
Duniya se khamoshi se guzar jayen hum to kya
Hasti hi apni kya hai zamane ke samne
Ek khwab hain jahan mein bikhar jayen hum to kya
Ab kaun muntazir hai hamare liye wahan
Shaam aa gai hai laut ke ghar jayen hum to kya
Dil ki khalish to saath rahegi tamam umar
Darya-e-gham ke paar utar jayen hum to kya
منیر نیازی 19 اپریل 1928ء کو ہوشیار پور کے قصبہ خان پور کے اک پشتون گھرانے میں پپدا ہوئے۔ ان کے والد محمد فتح خان محکمۂ انہار میں ملازم تھے لیکن خاندان کے باقی لوگ فوج یا ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ منیر ایک سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی پرورش ماں اور چچاؤں نے کی۔ ان کی والدہ کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور ان ہی سے ادب...
مکمل تعارف پڑھیں