ساحر لدھیانوی — شاعر کی تصویر

بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم — ساحر لدھیانوی

شاعر

تعارف شاعری

بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم

بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم
خاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہم
کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم
لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم

Bhadka Rahe Hain Aag Lab-e-Naghma Gar Se Hum

Bhadka rahe hain aag lab-e-naghma gar se hum
Khamosh kya rahein ge zamane ke dar se hum
Kuch aur badh gaye jo andhere to kya hua
Mayus to nahin hain talu-e-sehar se hum
Le de ke apne paas faqat ek nazar to hai
Kyon dekhein zindagi ko kisi ki nazar se hum
Mana ke is zameen ko na gulzar kar sake
Kuch khaar kam to kar gaye guzre jidhar se hum

شاعر کے بارے میں

ساحر لدھیانوی

اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام