تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو
تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو
یہ مانا میں کسی قابل نہیں ہوں ان نگاہوں میں
برا کیا ہے اگر یہ دکھ یہ حیرانی مجھے دے دو
میں دیکھوں تو سہی دنیا تمہیں کیسے ستاتی ہے
کوئی دن کے لئے اپنی نگہبانی مجھے دے دو
وہ دل جو میں نے مانگا تھا مگر غیروں نے پایا ہے
بڑی شے ہے اگر اس کی پشیمانی مجھے دے دو
ساحر لدھیانوی
Tum apnā ranj o gham apnī pareshānī mujhe de do
Tumheñ gham kī qasam is dil kī vīrānī mujhe de do
Ye mānā maiñ kisī qābil nahīn hūñ in nigāhoñ mein
Burā kyā hai agar ye dukh ye hairānī mujhe de do
Maiñ dekhūñ to sahī dunyā tumheñ kaise satātī hai
Koī din ke liye apnī nigahbānī mujhe de do
Vo dil jo maiñ ne māñgā thā magar ghairoñ ne pāyā hai
Baṛī shai hai agar is kī pashīmānī mujhe de do
اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...
مکمل تعارف پڑھیں