ساحر لدھیانوی — شاعر کی تصویر

یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا — ساحر لدھیانوی

شاعر

تعارف شاعری

یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا

یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
اس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا
جس طرح سے تھوڑی سی ترے ساتھ کٹی ہے
باقی بھی اسی طرح گزر جائے تو اچھا
دنیا کی نگاہوں میں بھلا کیا ہے برا کیا
یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائے تو اچھا
ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا

Yeh zulf agar khul ke bikhar jaaye toh achcha

Yeh zulf agar khul ke bikhar jaaye toh achcha
Is raat ki taqdeer sanwar jaaye toh achcha
Jis tarah se thodi si tere saath kati hai
Baaki bhi isi tarah guzar jaaye toh achcha
Duniya ki nigahon mein bhala kya hai bura kya
Yeh bojh agar dil se utar jaaye toh achcha
Vaise toh tumhein ne mujhe barbaad kiya hai
Ilzaam kisi aur ke sar jaaye toh achcha

شاعر کے بارے میں

ساحر لدھیانوی

اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام