دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
کہنے کو دل کی بات جنہیں ڈھونڈتے تھے ہم
محفل میں آ گئے ہیں وہ اپنے نصیب سے
نیلام ہو رہا تھا کسی نازنیں کا پیار
قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے
تیری وفا کی لاش پہ لا میں ہی ڈال دوں
ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے
ساحر لدھیانوی
Dekha hai zindagi ko kuch itna qareeb se
Chehre tamam lagne lage hain ajeeb se
Kehne ko dil ki baat jinhein dhoondhte the hum
Mehfil mein aa gaye hain woh apne naseeb se
Neelam ho raha tha kisi nazneen ka pyar
Qeemat nahin chukayi gai ek ghareeb se
Teri wafa ki laash pe la main hi daal doon
Resham ka yeh kafan jo mila hai raqeeb se
اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...
مکمل تعارف پڑھیں