ساحر لدھیانوی — شاعر کی تصویر

میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے — ساحر لدھیانوی

شاعر

تعارف شاعری

میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے

میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے
مرے قاتلوں کو خبر کیجیے
زمیں سخت ہے آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے
ستم کے بہت سے ہیں رد عمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے
وہی ظلم بار دگر ہے تو پھر
وہی جرم بار دگر کیجیے
قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہش بال و پر کیجیے

Maiñ zindah hūñ ye mushtahar kījiye

Maiñ zindah hūñ ye mushtahar kījiye
Mere qātiloñ ko khabar kījiye
Zamīn saḳht hai āsmān duur hai
Basar ho sake to basar kījiye
Sitam ke bahut se hain rad-e-'amal
Zarūrī nahīn chashm-e-tar kījiye
Vahī zulm bār-e-digar hai to phir
Vahī jurm bār-e-digar kījiye
Qafas toṛnā ba'd kī baat hai
Abhī khvāhish-e-bāl-o-par kījiye

شاعر کے بارے میں

ساحر لدھیانوی

اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام