ساحر لدھیانوی — شاعر کی تصویر

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا — ساحر لدھیانوی

شاعر

تعارف شاعری

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا
سوز بھر دو مرے سپنے میں غم الفت کا
میں کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا
درد کہتا ہے یہ گھبرا کے شب فرقت میں
آہ بن کر ترے پہلو سے نکل جاؤں گا
مجھ کو سمجھاؤ نہ ساحرؔ میں اک دن خود ہی
ٹھوکریں کھا کے محبت میں سنبھل جاؤں گا

Merī taqdīr mein jalnā hai to jal jā'ūñgā

Merī taqdīr mein jalnā hai to jal jā'ūñgā
Terā va'da to nahīn hūñ jo badal jā'ūñgā
Soz bhar do mere sapne mein gham-e-ulfat kā
Maiñ koī mom nahīn hūñ jo pighal jā'ūñgā
Dard kahtā hai ye ghabrā ke shab-e-furqat mein
Āh ban kar tere pahlu se nikal jā'ūñgā
Mujh ko samjhāo na Sāhir maiñ ek din khūd hī
Ṭhokreñ khā ke mohabbat mein sanbhal jā'ūñgā

شاعر کے بارے میں

ساحر لدھیانوی

اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام