ساحر لدھیانوی — شاعر کی تصویر

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے — ساحر لدھیانوی

شاعر

تعارف شاعری

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے
سرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے
دونوں وقت ملتے ہیں دو دلوں کی صورت سے
آسماں نے خوش ہو کر رنگ سا بکھیرا ہے
ٹھہرے ٹھہرے پانی میں گیت سرسراتے ہیں
بھیگے بھیگے جھونکوں میں خوشبوؤں کا ڈیرا ہے
کیوں نہ جذب ہو جائیں اس حسیں نظارے میں
روشنی کا جھرمٹ ہے مستیوں کا گھیرا ہے

Parbatoñ ke peṛoñ par shām kā baserā hai

Parbatoñ ke peṛoñ par shām kā baserā hai
Surma'ī ujālā hai champā'ī añdherā hai
Donoñ waqt milte hain do diloñ kī sūrat se
Āsmān ne khush ho kar rang sā bikherā hai
Ṭhahre ṭhahre pānī mein gīt sarsarāte hain
Bhīge bhīge jhoñkoñ mein khushbu'oñ kā ḍerā hai
Kyuñ na jazb ho jā'eñ is hasīñ nazzāre mein
Roshnī kā jhurmaṭ hai mastiyoñ kā gherā hai

شاعر کے بارے میں

ساحر لدھیانوی

اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام