وزیر آغا — شاعر کی تصویر

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں — وزیر آغا

شاعر

تعارف شاعری

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
جو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں
نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہے
مناظر الٹی جانب کو رواں ہیں
زمیں کے تال سب سوکھے پڑے ہیں
پرندے آسماں در آسماں ہیں
سنا ہے تشنگی بھی اک دعا ہے
لبوں پر شبد جس کے پر فشاں ہیں
کھلے صحرا میں مت ڈھونڈو ہمیں تم
سدا سے ہم تمہارے درمیاں ہیں

Chalo mana hamein be-karwan hain

Chalo mana hamein be-karwan hain
Jo juzv-e-karwan the woh kahan hain
Na jaane kaun peeche reh gaya hai
Manaazir ulti janib ko rawaan hain
Zameen ke taal sab sookhe pade hain
Parinde aasmaan dar aasmaan hain
Suna hai tishnagi bhi ek dua hai
Labon par shab_d jiske par fishaan hain
Khule sehra mein mat dhoondo hamein tum
Sada se hum tumhare darmiyaan hain

شاعر کے بارے میں

وزیر آغا

ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد میں گورنمنٹ کالج جھنگ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام