ظفراقبال — شاعر کی تصویر

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا — ظفراقبال

شاعر

تعارف شاعری

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا
شہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا
تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دن
میں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا
مجھ سے اچھائی بھی نہ کر میری مرضی کے خلاف
ورنہ میں بھی ہاتھ کوئی دوسرا کر جاؤں گا
مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر
میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا
شور ہے اس گھر کے آنگن میں ظفرؔ کچھ روز اور
گنبد دل کو کسی دن بے صدا کر جاؤں گا

Bewafai kar ke niklun ya wafa kar jaaun ga

Bewafai kar ke niklun ya wafa kar jaaun ga
Shehr ko har zaiqe se aashna kar jaaun ga
Tu bhi dhundhega mujhe shauq-e-saza mein ek din
Main bhi koi khoobsurat si khata kar jaaun ga
Mujh se achchai bhi na kar meri marzi ke khilaf
Warna main bhi haath koi dusra kar jaaun ga
Mujh mein hain gehri udasi ke jaraseem is qadar
Main tujhe bhi is marz mein mubtala kar jaaun ga
Shor hai is ghar ke aangan mein Zafar kuch roz aur
Gumbad-e-dil ko kisi din be-sada kar jaaun ga

شاعر کے بارے میں

ظفراقبال

ظفر اقبال اردو غزل کے اُن عظیم شاعر­وں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک مسلسل تخلیقی سفر جاری رکھا۔ 27 ستمبر 1932ء کو بہاول نگر ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام