احمد مشتاق — شاعر کی تصویر

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے — احمد مشتاق

شاعر

تعارف شاعری

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے
شاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہے
کہتی ہے ساحلوں سے یہ جاتے سمے کی دھوپ
ہشیار ندیوں کی چڑھائی کا وقت ہے
ہوتی ہے شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے
یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے
کوئی بھی وقت ہو کبھی ہوتا نہیں جدا
کتنا عزیز اس کی جدائی کا وقت ہے
دل نے کہا کہ شام شب وصل سے نہ بھاگ
اب پک چکی ہے فصل کٹائی کا وقت ہے
میں نے کہا کہ دیکھ یہ میں یہ ہوا یہ رات
اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

Har lamha zulmaton ki khudai ka waqt hai

Har lamha zulmaton ki khudai ka waqt hai
Shayad kisi ki chehra numai ka waqt hai
Kehti hai sahilon se ye jaate samey ki dhoop
Hoshiyar nadiyon ki chadhai ka waqt hai
Hoti hai sham aankh se aansu rawan hue
Ye waqt qaidiyon ki rihai ka waqt hai
Koi bhi waqt ho kabhi hota nahin juda
Kitna aziz us ki judai ka waqt hai
Dil ne kaha ke sham-e-shab-e-wasl se na bhaag
Ab pak chuki hai fasl-e-katayi ka waqt hai
Main ne kaha ke dekh ye main ye hawa ye raat
Us ne kaha ke meri padhai ka waqt hai

شاعر کے بارے میں

احمد مشتاق

احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام