آفاق میں پھیلے ہوئے منظر سے نکل کر
چاہا تجھے موجود و میسر سے نکل کر
دن سے بھی اٹھاتے نہیں ہم رات کے پردے
خوابوں کے تعاقب میں ہیں بستر سے نکل کر
دیوار کے سائے میں بھی اک شہر ہے آباد
دیکھا ہی نہیں تو نے کبھی گھر سے نکل کر
چشمے پہ جو پانی کے لیے ہاتھ بڑھاؤں
چنگاریاں آ جاتی ہیں پتھر سے نکل کر
پہچان رہی تھی مجھے ساحل پہ بچھی ریت
اک لہر چلی آئی سمندر سے نکل کر
غلام محمد قاصر
Aafaaq mein phaile hue manzar se nikal kar
Chaha tujhe maujood-o-mayassar se nikal kar
Din se bhi uthate nahin hum raat ke parde
Khwabon ke ta'aaqub mein hain bistar se nikal kar
Deewar ke saa'e mein bhi ek shahar hai aabad
Dekha hi nahin tu ne kabhi ghar se nikal kar
Chashme pe jo paani ke liye haath badhaoon
Chingariyaan aa jaati hain patthar se nikal kar
Pehchaan rahi thi mujhe saahil pe bichhi ret
Ek lahar chali aayi samandar se nikal kar
ِغلام محمد قاصر جدید اردو غزل کے اُن اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت اور جدت کے امتزاج سے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کا اصل نام غلام محمد...
مکمل تعارف پڑھیں