اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی — اقبال ساجد

شاعر

تعارف شاعری

عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی

عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی
کسی نے سنگ سے تصویر کو رہائی دی
سنہرے حرف بھی مٹی کے بھاؤ بیچ دیے
تجھے تو میں نے نئے ذہن کی کمائی دی
بچا سکی نہ مجھے بھیڑ چپ کے قاتل سے
ہزار شور مچایا بہت دہائی دی
وہ شخص مر کے بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا
کہ اک زمانے نے جنبش تو انتہائی دی
کبھی وہ ٹوٹ کے بکھرا کبھی وہ جمع ہوا
خدا نے اس کو عجب معجزہ نمائی دی

Ajab sada yeh numaaish mein kal sunayi di

Ajab sada yeh numaaish mein kal sunayi di
Kisi ne sang se tasweer ko rihai di
Sunehre harf bhi miṭṭi ke bha'o bech diye
Tujhe to main ne naye zehan ki kamayi di
Bacha saki na mujhe bheṛ chup ke qatil se
Hazaar shor machaya bahut duhai di
Woh shakhs mar ke bhi apni jagah se hil na saka
Ke ek zamane ne jumbish to intehai di
Kabhi woh tooṭ ke bikhra kabhi woh jama hua
Khuda ne us ko ajab mo'jiza numayi di

شاعر کے بارے میں

اقبال ساجد

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام