روشنی کے اک حوالے کو لئے پھرتا ہوں میں
اپنی جیبوں میں اجالے کو لئے پھرتا ہوں میں
میرا مسلک ہے جہاں میں سب کو ٹھنڈک بانٹنا
چاند ہوں دھرتی پہ ہالے کو لئے پھرتا ہوں میں
صدق کے اظہار کا اس سے بڑا کیا ہو ثبوت
آج کل ہونٹوں پہ تالے کو لئے پھرتا ہوں میں
موت کو مجھ سے نہیں ہے چھیننے والا کوئی
زہر خالص کے پیالے کو لئے پھرتا ہوں میں
جو بھی میرے سامنے آئے گا کھائے گا شکست
دل میں امیدوں کے بھالے کو لئے پھرتا ہوں میں
ہو گیا ہے آنکھ میں محفوظ خوں رویا ہوا
بادلوں کے سرخ گالے کو لئے پھرتا ہوں میں
پرورش پاتی ہیں ساجد مکڑیاں تخلیق کی
ذہن میں سوچوں کے جالے کو لئے پھرتا ہوں میں
اقبال ساجد
Roshni ke ek hawale ko liye phirta hun main
Apni jaibon mein ujale ko liye phirta hun main
Mera maslak hai jahan mein sab ko Thandak baaNTna
Chand hun dharti pe haale ko liye phirta hun main
Sidq ke izhar ka is se baRa kya ho saboot
Aaj kal honTon pe taale ko liye phirta hun main
Maut ko mujh se nahin hai chheen'ne wala koi
Zahar-e-khalis ke pyale ko liye phirta hun main
Jo bhi mere saamne aayega khayega shikast
Dil mein ummidon ke bhaale ko liye phirta hun main
Ho gaya hai aankh mein mahfooz khuN roya hua
Badalon ke surkh gaale ko liye phirta hun main
Parvarish paati hain Sajid makRiyaan takhleeq ki
Zehan mein sochon ke jaale ko liye phirta hun main
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں