اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی — اقبال ساجد

شاعر

تعارف شاعری

اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی

اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی
ہائے یہ تصویر بھی رنگوں سے خالی ہو گئی
پڑھتے پڑھتے تھک گئے سب لوگ تحریریں مری
لکھتے لکھتے شہر کی دیوار کالی ہو گئی
باغ کا سب سے بڑا جو پیڑ تھا وہ جھک گیا
پھل لگے اتنے کہ بوجھل ڈالی ڈالی ہو گئی
اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار
لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی
کھینچ ڈالا آنکھ نے سب آسمانوں پر حصار
بن چکے جب دائرے پرکار خالی ہو گئی
صبح کو دیکھا تو ساجدؔ دل کے اندر کچھ نہ تھا
یاد کی بستی بھی راتوں رات خالی ہو گئی

Ek tabiyat thi so woh bhi la-ubali ho gayi

Ek tabiyat thi so woh bhi la-ubali ho gayi
Haaye yeh tasveer bhi rangon se khaali ho gayi
Padhte padhte thak gaye sab log tehreeren meri
Likhte likhte shehar ki deewar kaali ho gayi
Bagh ka sab se bada jo ped tha woh jhuk gaya
Phal lage itne ki bojhal daali daali ho gayi
Ab to darwaze se apne naam ki takhti utaar
Lafz nange ho gaye shohrat bhi gaali ho gayi
Kheench daala aankh ne sab aasmanon par hisaar
Ban chuke jab daayre parkaar khaali ho gayi
Subh ko dekha to Sajid dil ke andar kuch na tha
Yaad ki basti bhi raaton raat khaali ho gayi

شاعر کے بارے میں

اقبال ساجد

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام