اس سال شرافت کا لبادہ نہیں پہنا
پہنا ہے مگر اتنا زیادہ نہیں پہنا
اس نے بھی کئی روز سے خواہش نہیں اوڑھی
میں نے بھی کئی دن سے ارادہ نہیں پہنا
دوڑے ہیں مگر صحن سے باہر نہیں دوڑے
گھر ہی میں رہے پاؤں میں جادہ نہیں پہنا
آباد ہوئے جب سے یہاں تنگ نظر لوگ
اس شہر نے ماحول کشادہ نہیں پہنا
درویش نظر آتا تھا ہر حال میں لیکن
ساجدؔ نے لباس اتنا بھی سادہ نہیں پہنا
اقبال ساجد
Is saal sharafat ka libada nahin pehna
Pehna hai magar itna zyada nahin pehna
Us ne bhi kayi roz se khwahish nahin oDhi
Main ne bhi kayi din se irada nahin pehna
DauDe hain magar sahn se bahar nahin dauDe
Ghar hi mein rahe paaon mein jaada nahin pehna
Abad hue jab se yahan tang nazar log
Is shahr ne mahol kushada nahin pehna
Darwesh nazar aata tha har haal mein lekin
Sajid ne libas itna bhi sada nahin pehna
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں