اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

خشک اس کی ذات کا ساتوں سمندر ہو گیا — اقبال ساجد

شاعر

تعارف شاعری

خشک اس کی ذات کا ساتوں سمندر ہو گیا

خشک اس کی ذات کا ساتوں سمندر ہو گیا
دھوپ کچھ ایسی پڑی وہ شخص بنجر ہو گیا
آنگن آنگن زہر برسائے گی اس کی چاندنی
وہ اگر مہتاب کی صورت اجاگر ہو گیا
میرے آدھے جسم کی اس کو لگے گی بد دعا
کل خبر آ جائے گی وہ شخص پتھر ہو گیا
کس نے اپنے ہاتھ سے خود موت کا کتبہ لکھا
کون اپنی قبر پر عبرت کا پتھر ہو گیا
قرب جب حد سے بڑھا دوری مقدر ہو گئی
اس کا ملنا بھی نہ ملنے کے برابر ہو گیا
میں کہ باہر کی فضا میں قید تھا جس کے سبب
آج وہ خود جنس کے پنجرے کے اندر ہو گیا
مفت میں تقسیم کی ساجدؔ متاع شاعری
جس نے اپنا قرب اپنایا وہ شاعر ہو گیا

Khushk us ki zaat ka saaton samundar ho gaya

Khushk us ki zaat ka saaton samundar ho gaya
Dhoop kuch aisi paṛi woh shakhs banjar ho gaya
Aangan aangan zehar barsayegi us ki chandni
Woh agar mahtab ki surat ujagar ho gaya
Mere aadhe jism ki us ko lagegi bad-dua
Kal khabar aa jaayegi woh shakhs patthar ho gaya
Kis ne apne haath se khud maut ka kutba likha
Kaun apni qabar par ibrat ka patthar ho gaya
Qurb jab hadd se baṛha doori muqaddar ho gayi
Us ka milna bhi na milne ke barabar ho gaya
Main ke bahar ki fiza mein qaid tha jis ke sabab
Aaj woh khud jins ke pinjre ke andar ho gaya
Muft mein taqseem ki Sajidؔ mata-e-shairi
Jis ne apna qurb apnaya woh shair ho gaya

شاعر کے بارے میں

اقبال ساجد

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام