اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

لگا دی کاغذی ملبوس پر مہر ثبات اپنی — اقبال ساجد

شاعر

تعارف شاعری

لگا دی کاغذی ملبوس پر مہر ثبات اپنی

لگا دی کاغذی ملبوس پر مہر ثبات اپنی
بشر کے نام کر دی ہے خدا نے کائنات اپنی
خلا کے آر بھی میں ہوں خلا کے پار بھی میں ہوں
عبور اک پل میں کرتا ہوں حدو ممکنات اپنی
جیوں گا اپنی مرضی سے مروں گا اپنی مرضی سے
مرے زیر تسلط ہے فنا اپنی حیات اپنی
لکھی ہے میں نے اپنے ہاتھ پر تحریر آئندہ
مری اپنی وراثت ہے قلم اپنا دوات اپنی
میں خود پر آزماؤں گا خود اپنا آخری داؤ
خبر ہے مجھ کو ساجدؔ جیت بن جائے گی مات اپنی

Laga di kaghazi malboos par mohar-e-sabat apni

Laga di kaghazi malboos par mohar-e-sabat apni
Bashar ke naam kar di hai Khuda ne kaainat apni
Khala ke aar bhi main hoon khala ke paar bhi main hoon
Uboor ik pal mein karta hoon hadd-e-mumkinat apni
Jiyunga apni marzi se marunga apni marzi se
Mere zer-e-tasallut hai fana apni hayaat apni
Likhi hai main ne apne haath par tehreer aainda
Meri apni virasat hai qalam apna dawaat apni
Main khud par azmaunga khud apna aakhri dao
Khabar hai mujh ko Sajidؔ jeet ban jaayegi maat apni

شاعر کے بارے میں

اقبال ساجد

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام