مضطر خیرآبادی — شاعر کی تصویر

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے — مضطر خیرآبادی

شاعر

تعارف شاعری

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے
حسرت کسی عاشق کی نکالی بھی گئی ہے
تم نے کسی بیمار کو اچھا بھی کیا ہے
حالت کسی بگڑے کی سنبھالی بھی گئی ہے
تم کھیل سمجھتے ہو مگر یہ تو بتاؤ
آہ‌ دل مضطر کبھی خالی بھی گئی ہے
کیا خاک کروں میں خلش عشق کا شکوہ
یہ پھانس کبھی تم سے نکالی بھی گئی ہے
جھگڑے بھی کہیں رشک رقابت کے مٹے ہیں
الفت میں کبھی خام خیالی بھی گئی ہے
مضطرؔ کو کبھی حسن کا صدقہ بھی دیا ہے
یہ بھیک کبھی آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

Chahat ki nazar aap se dali bhi gai hai

Chahat ki nazar aap se dali bhi gai hai
Hasrat kisi aashiq ki nikali bhi gai hai
Tum ne kisi beemar ko achha bhi kiya hai
Halat kisi bigde ki sambhali bhi gai hai
Tum khel samajhte ho magar yeh to batao
Aah-e-dil Muztarؔ kabhi khaali bhi gai hai
Kya khaak karoon main khalish-e-ishq ka shikwa
Yeh phaans kabhi tum se nikali bhi gai hai
Jhagre bhi kaheen rashk-e-raqabat ke mite hain
Ulfat mein kabhi khaam khayali bhi gai hai
Muztarؔ ko kabhi husn ka sadqa bhi diya hai
Yeh bheek kabhi aap se dali bhi gai hai

شاعر کے بارے میں

مضطر خیرآبادی

مضطرؔ خیرآبادی اردو ادب کے اُن ممتاز کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری میں مذہبی شعور، روحانی گہرائی اور خالص مشرقی تہذیب کا عکس نمایاں ہے...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام