مضطر خیرآبادی — شاعر کی تصویر

گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو — مضطر خیرآبادی

شاعر

تعارف شاعری

گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو

گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو
یہ بند بند جدا ہیں قبا کے دیکھ نہ لو
کسی کے عشق میں تکلیف کچھ نہیں ہوتی
کسی سے چار گھڑی دل لگا کے دیکھ نہ لو
دل و جگر کا تڑپنا ہماری بیتابی
جو دیکھنا ہے تو صورت دکھا کے دیکھ نہ لو
ہماری آہ کا کیا دیکھنا جو دیکھو گے
وہی تو بات ہے جھونکے ہوا کے دیکھ نہ لو
اگر محبت مضطرؔ کے تم نہیں قائل
تو ایک کام کرو آزما کے دیکھ نہ لو

Gawah-e-wasl-e-adu sar jhuka ke dekh na lo

Gawah-e-wasl-e-adu sar jhuka ke dekh na lo
Yeh band band juda hain qaba ke dekh na lo
Kisi ke ishq mein takleef kuch nahin hoti
Kisi se chaar ghadi dil laga ke dekh na lo
Dil-o-jigar ka tadapna hamari betaabi
Jo dekhna hai to soorat dikha ke dekh na lo
Hamari aah ka kya dekhna jo dekho ge
Wohi to baat hai jhonke hawa ke dekh na lo
Agar mohabbat Muztar ke tum nahin qaail
To ek kaam karo aazma ke dekh na lo

شاعر کے بارے میں

مضطر خیرآبادی

مضطرؔ خیرآبادی اردو ادب کے اُن ممتاز کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری میں مذہبی شعور، روحانی گہرائی اور خالص مشرقی تہذیب کا عکس نمایاں ہے...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام