اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوں
دیا ہوں اور جلتا جا رہا ہوں
مری ہر سمت یہ سائے سے کیوں ہیں
میں جیسے دن ہوں ڈھلتا جا رہا ہوں
دھواں سا پھیلتا جاتا ہوں بجھ کر
حدوں سے اب نکلتا جا رہا ہوں
زوال آدمیت دیکھ کر میں
کف افسوس ملتا جا رہا ہوں
مجھے تو ٹوٹنا ہے حشر بن کر
نہ جانے کیوں میں ٹلتا جا رہا ہوں
میں زندہ ہوں کئی صدیوں سے اب تک
فقط چہرے بدلتا جا رہا ہوں
سلیم فگار
Andhere ko nigalta ja raha hoon
Diya hoon aur jalta ja raha hoon
Meri har simt yeh saaye se kyun hain
Main jaise din hoon, dhalta ja raha hoon
Dhuan sa phailta jaata hoon bujh kar
Hadon se ab nikalta ja raha hoon
Zawaal-e-aadmiyat dekh kar main
Kaf-e-afsos milta ja raha hoon
Mujhe toh tootna hai hashar ban kar
Na jaane kyun main talta ja raha hoon
Main zinda hoon kai sadiyon se ab tak
Faqat chehre badalta ja raha hoon
سلیم فگارؔ (اصل نام: محمد سلیم) اردو کے ایک اہم معاصر شاعر ہیں جن کی پیدائش 22 جون 1972ء کو جھیلم، پنجاب (پاکستان) میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں