سلیم فگار — شاعر کی تصویر

دائمی ہجرتوں کے بیٹے ہیں — سلیم فگار

شاعر

تعارف شاعری

دائمی ہجرتوں کے بیٹے ہیں

دائمی ہجرتوں کے بیٹے ہیں
راستے جو گھروں سے نکلے ہیں
یہ زمیں مر رہی ہے اندر سے
تتلیاں پھول پیڑ روتے ہیں
بیٹھ کر سوچتے ہیں ذلت میں
ہم وہی آسمان والے ہیں
موج در موج خون اچھلے گا
ان ہی دریاؤں سے جو اجلے ہیں
بٹ رہے ہیں طعام ہر جانب
پھر بھی ہم لوگ کتنے بھوکے ہیں
تم کو معلوم ہی نہیں ہم پر
روز و شب جو عذاب اترے ہیں
ہر زمانے میں میرے جیسے فگارؔ
صرف دو چار لوگ ہوتے ہیں

Daimi hijraton ke bete hain

Daimi hijraton ke bete hain
Raaste jo gharon se nikle hain
Yeh zameen mar rahi hai andar se
Titliyan phool ped rote hain
Baith kar sochte hain zillat mein
Hum wohi aasman wale hain
Mauj dar mauj khoon uchhlega
Inhi daryaaon se jo uchhle hain
Bat rahe hain ta'aam har jaanib
Phir bhi hum log kitne bhooke hain
Tum ko maloom hi nahin hum par
Roz-o-shab jo azab utre hain
Har zamane mein mere jaise Fighaar!
Sirf do chaar log hote hain

شاعر کے بارے میں

سلیم فگار

سلیم فگارؔ (اصل نام: محمد سلیم) اردو کے ایک اہم معاصر شاعر ہیں جن کی پیدائش 22 جون 1972ء کو جھیلم، پنجاب (پاکستان) میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی زندگی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام