شہاب جعفری — شاعر کی تصویر

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو — شہاب جعفری

شاعر

تعارف شاعری

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو
سائے نے جلا دیا ہے مجھ کو
میں نالہ سکوت سنگ کا ہوں
صحرا نے بہت سنا ہے مجھ کو
میں لفظ کی طرح بے زباں تھا
معنی نے ادا کیا ہے مجھ کو
ہر سچ کا نصیب سنگ ساری
اور سچ ہی سے واسطہ ہے مجھ کو
خائف نہیں مرگ ناگہاں سے
سینے کا وہ حوصلہ ہے مجھ کو
پتھر پہ مری صدا کا سایہ
آئینہ دکھا رہا ہے مجھ کو
آواز دے مجھ کو تیرگی میں
آواز ہی نقش پا ہے مجھ کو

Is dhoop se kya gila hai mujh ko

Is dhoop se kya gila hai mujh ko
Saaye ne jala diya hai mujh ko
Main nala-e-sakoot-e-sang ka hoon
Sahra ne bahut suna hai mujh ko
Main lafz ki tarah be-zaban tha
Mani ne ada kiya hai mujh ko
Har sach ka naseeb sang-sari
Aur sach hi se wasta hai mujh ko
KHaif nahin marg-e-nagahan se
Seene ka woh hausla hai mujh ko
Patthar pe meri sada ka saya
Aaina dikha raha hai mujh ko
Aawaz de mujh ko tareeki mein
Aawaz hi naqsh-e-pa hai mujh ko

شاعر کے بارے میں

شہاب جعفری

شہاب جعفری (اصل نام: سید وقار احمد جعفری) جدید اردو شاعری کے ممتاز اور صاحبِ فکر شاعر تھے۔ وہ 2 جون 1930ء کو بنارس (اتر پردیش، ہندوستان) میں پیدا ہ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام