شب غم کو سحر کرنا پڑے گا
قیامت تک سفر کرنا پڑے گا
سوا نیزے پہ سورج آ گیا ہے
یہ دن بھی اب بسر کرنا پڑے گا
یہ آنکھیں سیپیاں ہیں اس لئے بھی
ہر آنسو کو گہر کرنا پڑے گا
بہت لوٹا ہے دل کو آگہی نے
اسے اب بے خبر کرنا پڑے گا
کہاں تک در بدر پھرتے رہیں گے
تمہارے دل میں گھر کرنا پڑے گا
ستارے کج روی پر آ گئے ہیں
جہاں زیر و زبر کرنا پڑے گا
محبت کام ہی ایسا ہے شہزادؔ
نہ چاہیں گے مگر کرنا پڑے گا
Shab-e-gham ko sahar karna paṛe ga
Qayamat tak safar karna paṛe ga
Sawa neze pe suraj aa gaya hai
Ye din bhi ab basar karna paṛe ga
Ye aankhen seepiyan hain is liye bhi
Har aansoo ko gauhar karna paṛe ga
Bahut loota hai dil ko aagahi ne
Use ab be-khabar karna paṛe ga
Kahan tak dar-ba-dar phirte rahenge
Tumhare dil mein ghar karna paṛe ga
Sitaare kaj-ravi par aa gaye hain
Jahan zer-o-zabar karna paṛe ga
Mohabbat kaam hi aisa hai Shehzad
Na chahen ge magar karna paṛe ga
شہزاد احمد 16 اپریل 1932ء کو امرتسر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شہزاد احمد تھا اور ادبی دنیا میں بھی وہ اسی نام سے معروف ہوئے۔ ...
مکمل تعارف پڑھیں