search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ہوم
›
تنویر دانش
›
شاعری
تنویر دانش کی شاعری، غزلیں اور نظمیں
شاعر
تعارف
شاعری
کلامِ شاعر
تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
اے گلِ زرد تجھے زرد نہیں ہونا تھا
اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی
بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں
جو آنکھ دیکھتاهوں مجھےنم دکھائی دے
محبت جب ضروری تھی
سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی
بات کر کے وہ کچھ تو دھارے سے
میں حرف حرف کہانی تلاش کرتے ہوۓ
کچھ زمانے کو بھی ستاتے ہیں
نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
شہر کے دوسرے کنارے سے
حقیتوں سے الگ کر چکا گمان کو میں
مرے صحن میں پڑا وحشتوں کا پالنا ہے
ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
سارے الزام اپنے سر لے گا
جھلیے میرے بال کے سجناں سیکے نیں
کھینچ کر روشنی میں لایا گیا
دھوپ کی تمازت میں
دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے
میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں
دام پر دام ہے اداسی کا
میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
دیکھتے ہو جو مسکراتے ہیں
سانحہ ہے بڑا چراغ کے ساتھ
یہ جو ہم دل کو دل نہیں کہتے
تف ہے ایسی ستم ظریفی پر
زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
ہماری خود سے ملاقات ہونا باقی ہے
اک مشقت ہے مسکرانے میں
جب بات ہو رہی تھی تری چشمِ ناز کی
یہ جو دو گھونٹ کی اداسی ہے
بے گھروں کا بھی کچھ ٹھکانا ہے
ایک خوشبو کے تعاقب میں وہ جانا میرا
غزہ اِس عہد کا کرب و بلا ہے
جاگتی آنکھ سے اک صورتِ دیگر لانا
پھردا رہنا وانگ شدائیاں
اگر تو چاہے ابھی خودکو سرخرو کر لے
لا الہ ہے بِنا محبت کی
ایسے نقوش دیکھ ہمارے نہیں بنا
شاعر کے بارے میں
لوگ ملتے نہیں ہیں لوگوں سے,--- نام بدنام ہے اداسی کا
مکمل تعارف پڑھیں
دیگر کلام
‹ تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
‹ اے گلِ زرد تجھے زرد نہیں ہونا تھا
‹ اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی
‹ بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
‹ کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں
‹ جو آنکھ دیکھتاهوں مجھےنم دکھائی دے