سجاد رضا کی آواز میں
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
کلام: پروین شاکر · محفل: کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر) · 2025-12-26
«رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھیسائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی
خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائےزخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی