مقرر

سجاد رضا

@srazaansari

37
پیش کردہ کلام
57
محفلوں میں شرکت
سجاد رضا کی آواز میں

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06

«دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں

آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ورھیاں خود نوں آپے مل نہ پایا میں Varhiyaan khud nu aape mil na paya main سجاد رضا آواز میں دستیاب
  2. 02 دُکھاں چار چُفیرے گھیرا پانا اے Dukhan chaar chuphairay ghera pana ae سجاد رضا آواز میں دستیاب
  3. 03 دل کی آنکھوں کو میری وا کر دے Dil ki aankhon ko meri wa kar de سجاد رضا آواز میں دستیاب
  4. 04 مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن Mat ghazab kar chhod de ghussa sajan آبرو شاہ مبارک آواز میں دستیاب
  5. 05 نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی Nahin ghar mein falak ke dil-kushai آبرو شاہ مبارک آواز میں دستیاب
  6. 07 فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے Fayda kya hai zamane mein khasara kya hai دلاور علی آزر آواز میں دستیاب
  7. 08 درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے Daroon khwab naya ek jahan nikalta hai دلاور علی آزر آواز میں دستیاب
  8. 09 دل دے ہتھ مُہار سی میری Dil de hath muhar si meri سجاد رضا آواز میں دستیاب