سجاد رضا کی آواز میں
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06
«دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں
آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں